آیت 26 { وَاَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاہَرُوْہُمْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْہِمْ } ”اور اللہ نے اتار لیا اہل ِکتاب میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے ان مشرکین کی مدد کی تھی ‘ ان کے قلعوں سے“ بنو قریظہ کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے مسلمانوں سے بد عہدی کر کے حملہ آور قبائل کے ساتھ گٹھ جوڑ کرلیا تھا۔ چناچہ اللہ کی مشیت کے مطابق انہیں اپنے قلعوں اور گڑھیوں سے نکل کر مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈالنا پڑے۔ { وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ } ”اور ان کے دلوں میں اس نے رعب ڈال دیا“ { فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَتَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًا } ”تو اب ان میں سے کچھ کو تم قتل کر رہے ہو اور کچھ کو تم قیدی بنا رہے ہو۔“ یعنی حضرت سعد بن معاذ رض کے فیصلے کے مطابق جنگ کے قابل مرد قتل کردیے گئے ‘ جبکہ بوڑھوں ‘ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا۔
- 33:2626
وَأَنْزَلَ الَّذِينَ ظَاهَرُوهُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ صَيَاصِيهِمْ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِيقًا تَقْتُلُونَ وَتَأْسِرُونَ فَرِيقًا
اور (بنو قُرَیظہ کے) جن اہلِ کتاب نے ان (کافروں) کی مدد کی تھی اﷲ نے انہیں (بھی) ان کے قلعوں سے اتار دیا اور ان کے دلوں میں (اسلام کا) رعب ڈال دیا، تم (ان میں سے) ایک گروہ کو (ان کے جنگی جرائم کی پاداش میں) قتل کرتے ہو اور ایک گروہ کو جنگی قیدی بناتے ہو،
- common.revelation-Medinan
- common.hizb : 168