آیت 48 وَاِذْ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ وَقَالَ لاَ غَالِبَ لَکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ یعنی ان کے دلوں میں شیطان نے متکبرانہ خیالات پیدا کردیے تھے اور انہیں خوش فہمی میں مبتلا کردیا تھا کہ تمہارا یہ سازوسامان ‘ یہ اسلحہ ‘ یہ اتنا بڑا لشکر ‘ یہ سب کچھ غیر معمولی اور انہونی صورت حال ہے۔ عرب کی تاریخ میں اس طرح کے مواقع بہت کم ملتے ہیں۔ کس میں ہمت ہے کہ آج اس لشکر کے سامنے ٹھہر سکے اور کس کے پاس اتنی طاقت ہے کہ آج تمہارے اوپر غلبہ پا سکے ؟وَاِنِّیْ جَارٌ لَّکُمْ ج فَلَمَّا تَرَآءَ تِ الْفِءَتٰنِ نَکَصَ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَقَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْکُمْ اِنِّیْٓ اَرٰی مَا لاَ تَرَوْنَ چونکہ ابلیس عزازیل کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے ‘ لہٰذا ناری مخلوق ہونے کی وجہ سے اس نے فرشتوں کو نازل ہوتے دیکھ لیا اور یہ کہتے ہوئے الٹے پاؤں بھاگ کھڑا ہوا کہ میں تو یہاں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم لوگوں کو نظر نہیں آ رہا ہے۔
- 8:4848
وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّي جَارٌ لَكُمْ ۖ فَلَمَّا تَرَاءَتِ الْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكُمْ إِنِّي أَرَىٰ مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ۚ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ
اور جب شیطانوں نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر کے دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہوئیں تو پسپا ہو کر چل دیا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے۔ اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
- common.revelation-Medinan
- common.hizb : 73