قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا هِيَ ” پھر بولے ، اپنے رب سے صاف صاف پوچھ کر بتاؤ ، کیسی گائے مطلوب ہے ؟........“ اس سوال اور لیت ولعل کا عذر وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ معاملہ ان کے لئے موجب اشتباہ بن گیا اور گائے کے تعین میں بڑی مشکل پیش آرہی ہے ۔إِنَّ الْبَقَرَ تَشَابَهَ عَلَيْنَا ” ہمیں اس گائے کے تعین میں اشتباہ ہوگیا ہے “ اب آکر انہیں اپنی لجاجت اور جھگڑالو پنے کا قدرے احساس ہوجاتا ہے ۔ اور بادل نخواستہ ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں۔ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمُهْتَدُونَ ” اللہ نے چاہا تو ہم اس کا پتہ پالیں گے۔ “
- 2:7070
قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا هِيَ إِنَّ الْبَقَرَ تَشَابَهَ عَلَيْنَا وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمُهْتَدُونَ
انہوں نے کہا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر ہمیں بتائے کہ وہ کس قسم کی ہے کیوں کہ وہ گائے ہم پر مشتبہ ہو گئی ہے اور ہم اگر الله نے چاہا تو ضرور پتہ لگا لیں گے
- common.revelation-Medinan
- common.hizb : 4