واقعہ اصحاب الاخدود کی طرف آنے سے قبل سورت کا آغاز اس قسم سے ہوتا ہے ” قسم ہے مضبوط قلعوں والے آسمان کی “۔” بروج “ سے مراد یا تو عظیم الجثہ اجرام فلکی ہیں ، گویا وہ آسمانوں کے عظیم الشان قلعے ہیں ، سورة ذاریات میں کہا گیا۔

والسماء .................... لموسعون (47:79) ” اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا اور ہم بہت وسعت دینے والے ہیں “۔ اور سورة نازعات میں فرمایا :

ءانتم .................... بنھا (27:79) ” کیا تخلیق کے لحاظ سے تم مضبوط ہو یا آسمان جسے ہم نے بنایا “۔ اور یا بروج سے مراد وہ منزلیں ہیں جن کے اندر یہ اجرام گردش کرتے ہیں یعنی جب یہ اجرام اپنے ایک مدار کے اندر گردش کرتے ہیں اور اس سے سرموتجاوز نہیں کرسکتے اور بروج کے لفظ سے ان کی ضخامت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، یہاں اس سورت کی فضا پر ضخامت کا سایہ ڈالنا مقصود ہے۔