یوم یقول ............ نور کم (75 : 31) ” اس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں۔ “ مومنین اور مومنات کا گروہ جدھر بھی دیکھتا ہے ادھر نورہی نور ہے۔ جو لطیف و شفاف ہے ، لیکن اس نور سے منافق مرد اور منافق عورتوں کا گروہ کس طرح استفادہ کرسکتا ہے ، انہوں نے تو پوری زندگی جہالت کی تاریکی میں بسر کی ہے۔ ایک نامعلوم آواز اس موقعہ پر پکارتی ہے۔

قیل ارجعوا ................ نورا (75 : 31) ” مگر ان سے کہا جائے گا ” پیچھے ہٹ جاؤ ، ایک نور کہیں اور تلاش کرو۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آواز ان تذلیل اور ان کے ساتھ مزاح کے لئے بلند ہوگی۔ اور ان کو یہ یاد دہانی مطلوب ہوگی کہ دنیا میں تم کیا کرتے تجھے رات کے اندھیروں میں اپنی منافقانہ پالیسی تیار کرتے رہتے تھے۔ کہ واپس جاؤ دنیا میں اور وہاں اپنا نور تلاش کرو۔ واپس جاؤ کیونکہ یہ نور تو دنیا سے آیا ہے۔ دنیا کے عمل سے یہ نور حاصل ہوتا ہے۔ آج تو تم دارالجزاء میں ہو یہاں کیا تلاش کرتے ہو۔

اس مرحلے میں اچانک مومنین اور مومنات کے گروہ اور منافقین اور منافقات کے گروہ کے درمیان جدائی کردی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ جدائی کا دن ہے۔ دنیا میں تو یہ لوگ اسلامی صفوں میں گھس گئے تھے۔

فضرب .................... العذاب (75 : 31) ” پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔ “ یہ ایک ایسی دیوار ہوگی جس کے اس پار نظر تو نہ آئے گا لیکن آواز سنائی دے گی۔ اب منافقین کا گوہ مومنین کو پکارے گا۔