یہ لوگ دراصل اللہ کی آیات اور اللہ کے رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ اسلئے ان سے یہ توقع نہ کی جائے کہ یہ لوگ قرآن کو سمجھ لیں گے۔ نہ ان سے یہ توقع کر ھی جائے کہ یہ لوگ اس کی تعلیمات سے نفع اٹھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس روش کی وجہ سے ان دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی ہے۔ لہٰذا یہ نہ سن سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں اور ان کی اس روش مذاق اور استہزاء کی وجہ سے ان کے لئے ضلالت لکھ دی گئی ہے۔ لہٰذا اب ان کو کبھی بھی ہدایت نہیں ملے گی کیونکہ ہدایت ان لوگوں کو ملتی ہے جو کھلے دل و دماغ سے بات کو سنتے ہیں۔
- 18:5757
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ ۚ إِنَّا جَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا ۖ وَإِنْ تَدْعُهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ فَلَنْ يَهْتَدُوا إِذًا أَبَدًا
اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے آیات هالٰہٰیہ کی یاد دلائی جائے اور پھر اس سے اعراض کرے اور اپنے سابقہ اعمال کو بھول جائے ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ یہ حق کو سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں بہراپن ہے اور اگر آپ انہیں ہدایت کی طرف بلائیں گے بھی تو یہ ہرگز ہدایت حاصل نہ کریں گے
- common.revelation-Meccan
- common.hizb : 120