رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ جو وحی آپ ﷺ پر نازل ہوئی آپ ﷺ اس کی تلاوت کریں۔ اسی میں دو ٹوک فیصلے ہیں۔ اس کے تمام فیصلے عین سچائی ہیں ، اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔ ہمیں صرف اللہ کو پکارنا چاہئے۔ کیونکہ اللہ کی پناہ کے سوا کوئی اور پناہ نہیں ہے۔ دیکھئے اصحاب کہف اللہ کی طرف بھاگے تو اللہ نے ان پر رحمت کی۔
- 18:2626
قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا ۖ لَهُ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَبْصِرْ بِهِ وَأَسْمِعْ ۚ مَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا
کہہ دو الله بہتر جانتا ہے کہ کتنی مدت رہے تمام آسمانوں اور زمین کا علم غیب اسی کو ہے کیا عجیب دیکھتا اور سنتا ہے ان کا الله کے سوا کوئی بھی مددگار نہیں اور نہ ہی وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے
- common.revelation-Meccan
- common.hizb : 118