آیت 77 فَانْطَلَقَا ۪حَتّٰٓي اِذَآ اَتَيَآ اَهْلَ قَرْيَـةِۨ اسْـتَطْعَمَآ اَهْلَهَاکہ ہم مسافر ہیں بھوکے ہیں ہمیں کھانا چاہیے۔فَاَبَوْا اَنْ يُّضَيِّفُوْهُمَااس بستی کے باشندے کچھ ایسے کٹھور دل تھے کہ پوری بستی میں سے کسی ایک شخص نے بھی انہیں کھانا کھلانے کی حامی نہ بھری۔قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ اَجْرًایہ ایسے ناہنجار لوگ ہیں کہ انہوں نے ہمیں کھانا تک کھلانے سے انکار کردیا تھا اور آپ نے بغیر کسی معاوضے کے ان کی دیوار مرمت کردی ہے۔ بہتر ہوتا اگر آپ اس کام کی کچھ اجرت طلب کرتے اور اس کے عوض ہم کھانا ہی کھالیتے۔
- 18:7878
قَالَ هَٰذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ ۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا
(خضرعلیہ السلام نے) کہا: یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی (کا وقت) ہے، اب میں آپ کو ان باتوں کی حقیقت سے آگاہ کئے دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے،
- common.revelation-Meccan
- common.hizb : 121