اور اس عیب کی وجہ سے یہ کشتی بیگار میں پکڑے جانے سے بچ گئی اور یہ عیب ایک چھوٹا نقصان تھا اور ایک بڑے نقصان سے بچنے کے لئے چھوٹا نقصان برداشت کیا جاسکتا ہے۔ اگر کشتی کو یہ تھوڑا سا نقصان نہ پہنچایا جاتا تو اس کو شدید نقصان اٹھانا پڑتا۔
- 18:7979
أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا
وہ جو کشتی تھی سو وہ چند غریب لوگوں کی تھی وہ دریا میں محنت مزدوری کیا کرتے تھے پس میں نے ارادہ کیا کہ اسے عیب دار کر دوں اور (اس کی وجہ یہ تھی کہ) ان کے آگے ایک (جابر) بادشاہ (کھڑا) تھا جو ہر (بے عیب) کشتی کو زبردستی (مالکوں سے بلامعاوضہ) چھین رہا تھا،
- common.revelation-Meccan
- common.hizb : 121