آیت 118 اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ ج۔تجھے ان پر پورا اختیار حاصل ہے ‘ تیری مخلوق ہیں۔وَاِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ یہ بہترین انداز ہے۔ معافی کی درخواست بھی ہے ‘ جس میں بہت خوبصورت انداز میں شفقت و رأفت کا اظہار ہے ‘ جو نوع انسانی کے لیے انبیاء کی شخصیت کا خاصہّ ہے۔ لیکن اس سے آگے بڑھ کر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ مقام عبدیت یہی ہے۔ تو اے اللہ ! تیرا ہی اختیار ہے اور تو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی۔ اگر تو انہیں معاف فرمانا چاہے تو تجھ سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا ‘ کوئی جواب طلبی نہیں کرسکتا کہ تو نے کیسے معاف کردیا ! اب آ رہا ہے کہ اس پوری پیشی کا ڈراپ سین اور آخری نقشہ کیا ہوگا۔
- 5:118118
إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کر دے تو تو ہی زبردست حکمت والا ہے
- common.revelation-Medinan
- common.hizb : 51