آیت 10{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَآئَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْہُنَّ } ”اے اہل ِایمان ! جب تمہارے پاس آئیں مومن خواتین ہجرت کر کے تو ان کا امتحان لے لیا کرو۔“ یعنی ہر خاتون سے ضروری حد تک جانچ پڑتال اور تحقیق و تفتیش کرلیا کرو کہ آیا واقعی وہ سچی اور مخلص مومنہ ہے۔ { اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِہِنَّ } ”اللہ تو ان کے ایمان کے بارے میں بہت اچھی طرح جانتا ہے۔“ کسی کے دل میں ایمان ہے یا نہیں ‘ اور اگر ہے تو کتنا ایمان ہے ‘ اس کا صحیح علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ تم لوگ اپنے طور پر کسی کے ایمان کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتے۔ لیکن محض ایک احتیاطی تدبیر کے طور پر مناسب طریقے سے کسی نہ کسی درجے میں ایک اندازہ لگانے کی کوشش ضرور کیا کرو کہ ہجرت کرنے والی خواتین کیا واقعی مومنات ہیں اور کیا واقعی وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہجرت کر کے مدینہ آئی ہیں۔ { فَاِنْ عَلِمْتُمُوْہُنَّ مُؤْمِنٰتٍ } ”پھر اگر تم جان لو کہ وہ واقعی مومنات ہیں“ { فَلَا تَرْجِعُوْہُنَّ اِلَی الْکُفَّارِ } ”تو انہیں کفار کی طرف مت لوٹائو۔“ { لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ یَحِلُّوْنَ لَہُنَّ } ”نہ اب یہ ان کافروں کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ ان کے لیے حلال ہیں۔“ { وَاٰتُوْہُمْ مَّآ اَنْفَقُوْا } ”اور ان کافروں کو ادا کر دو جو کچھ انہوں نے خرچ کیا تھا۔“ یعنی ان کے کافر شوہروں نے ان کو جو مہر دیے تھے وہ انہیں بھجوا دو۔ اگر کسی مشرک کی بیوی مسلمان ہو کر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آگئی ہے تو اب وہ اس کی بیوی نہیں رہی ‘ ان کے درمیان تعلق زوجیت ختم ہوچکا ہے ‘ لیکن عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ مہر کی وہ رقم جو وہ شخص اس خاتون کو اپنی بیوی کی حیثیت سے ادا کرچکا ہے وہ اسے لوٹا دی جائے۔ اس حکم سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام بلاتفریق مذہب و ملت کسی حق دار کا حق اس تک پہنچانے کے معاملے کو کس قدر سنجیدگی سے لیتا ہے۔ اور یہ سنجیدگی یا تاکید صرف قانون سازی کی حد تک ہی نہیں بلکہ حضور ﷺ نے قرآنی قوانین و احکام کے عین مطابق ایسا نظام عدل و قسط بالفعل قائم کر کے بھی دکھا دیاجس میں حق دار کو تلاش کر کے اس کا حق اس تک پہنچایا جاتا تھا۔ حضرت عمر رض کے دور خلافت میں شام کے محاذ پر حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رض سپہ سالار تھے۔ انہوں نے رومیوں کے خلاف یرموک کے میدان میں صدی کی سب سے بڑی جنگ لڑی۔ جنگ یرموک کی تیاری کے دوران ایک ایسا مرحلہ بھی آیا جب مسلمانوں کو جنگی حکمت عملی کے تحت کچھ مفتوحہ علاقوں کو خالی کر کے پیچھے ہٹنا پڑا۔ ان علاقوں کی عیسائی رعایا سے مسلمان جزیہ وصول کرچکے تھے۔ جزیہ ایک ایسا ٹیکس ہے جو اسلامی حکومت اپنے غیر مسلم شہریوں سے ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری کے عوض وصول کرتی ہے۔ اسی لیے یہ ٹیکس ادا کرنے والے شہری ذِمّی کہلاتے ہیں۔ بہرحال مذکورہ علاقوں سے مسلمان وقتی طور پر چونکہ واپس جا رہے تھے اور اپنی غیر مسلم رعایا کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری نبھانے سے قاصر تھے ‘ اس لیے حضرت ابوعبیدہ رض کے حکم پر جزیہ کی تمام رقم متعلقہ افراد کو واپس کردی گئی۔ مسلمانوں کے اس عمل نے عیسائیوں کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کے واپس جانے پر وہ لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ یہ ہے اس دین کے نظام عدل و قسط کے تحت حق دار کو اس کا حق پہنچانے کی ایک مثال ‘ جس کے ماننے والوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ مسلمان عورتوں کے مہر کی رقوم ان کے مشرک شوہروں کو لوٹا دیں۔ { وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اَنْ تَنْکِحُوْہُنَّ اِذَآ اٰتَیْتُمُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ } ”اور اے مسلمانو ! تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم ان خواتین سے نکاح کرلو جبکہ تم انہیں ان کے مہر ادا کر دو۔“ { وَلَا تُمْسِکُوْا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ } ”اور تم کافر خواتین کی ناموس کو اپنے قبضے میں نہ رکھو“یعنی اگر تم میں سے کچھ لوگوں کی بیویاں ایمان نہیں لائیں اور ابھی تک مکہ ہی میں ہیں تو تم ان کو اپنے نکاح میں روکے نہ رکھو ‘ بلکہ انہیں طلاق دے دو اور انہیں بتادو کہ اب تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ { وَاسْئَلُوْا مَآ اَنْفَقْتُمْ وَلْیَسْئَلُوْا مَآ اَنْفَقُوْا } ”اور تم مانگ لو وہ مال جو تم نے بطورِ مہر خرچ کیا ہے ‘ اور وہ کافر بھی مانگ لیں جو کچھ انہوں نے خرچ کیا ہے۔“ یعنی جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیے تھے وہ تم واپس مانگ لو ‘ اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں۔ { ذٰلِکُمْ حُکْمُ اللّٰہِط یَحْکُمُ بَیْنَـکُمْ } ”یہ اللہ کا حکم ہے ‘ وہ تمہارے مابین فیصلہ کر رہا ہے۔“ { وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ } ”اور اللہ سب کچھ جاننے والا ‘ کمال حکمت والا ہے۔“
- 60:1010
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ ۖ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ ۖ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ ۖ لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ ۖ وَآتُوهُمْ مَا أَنْفَقُوا ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۚ وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَاسْأَلُوا مَا أَنْفَقْتُمْ وَلْيَسْأَلُوا مَا أَنْفَقُوا ۚ ذَٰلِكُمْ حُكْمُ اللَّهِ ۖ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو انہیں اچھی طرح جانچ لیا کرو، اللہ اُن کے ایمان (کی حقیقت) سے خوب آگاہ ہے، پھر اگر تمہیں اُن کے مومن ہونے کا یقین ہو جائے تو انہیں کافروں کی طرف واپس نہ بھیجو، نہ یہ (مومنات) اُن (کافروں) کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ (کفّار) اِن (مومن عورتوں) کے لئے حلال ہیں، اور اُن (کافروں) نے جو (مال بصورتِ مَہر اِن پر) خرچ کیا ہو وہ اُن کو ادا کر دو، اور تم پر اس (بات) میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اِن سے نکاح کر لو جبکہ تم اُن (عورتوں) کا مَہر انہیں ادا کر دو، اور (اے مسلمانو!) تم بھی کافر عورتوں کو (اپنے) عقدِ نکاح میں نہ روکے رکھو اور تم (کفّار سے) وہ (مال) طلب کر لو جو تم نے (اُن عورتوں پر بصورتِ مَہر) خرچ کیا تھا اور وہ (کفّار تم سے) وہ (مال) مانگ لیں جو انہوں نے (اِن عورتوں پر بصورتِ مَہر) خرچ کیا تھا، یہی اللہ کا حکم ہے، اور وہ تمہارے درمیان فیصلہ فرما رہا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،
- common.revelation-Medinan
- common.hizb : 220