آیت 14 فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا ج۔نظر انداز کرنے کی اس کیفیت کا یبان سورة المؤمنون میں اس طرح ہوا ہے : قَالَ اخْسَءُوْا فِیْہَا وَلَا تُکَلِّمُوْنِ اللہ فرمائے گا : اب تم ذلیل و خوار ہو کر اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔
- 32:1414
فَذُوقُوا بِمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا إِنَّا نَسِينَاكُمْ ۖ وَذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
لہذا تم لوگ اس بات کا مزہ چکھو کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو اِھلا دیا تھا تو ہم نے بھی تم کو نظرانداز کردیا ہے اب اپنے گزشتہ اعمال کے بدلے دائمی عذاب کا مزہ چکھو
- common.revelation-Meccan
- common.hizb : 166