لیکن ان لوگوں کے دل اس قدر مسخ ہوگئے تھے ، اس قدر بگڑ گئے تھے ، اور ان کی ماہیت اس قدر بدل گئی تھی کہ وہ اس کلام کے کمال و جمال کو سمجھنے سے عاجز تھے ، وہ اس کلام کی جلالت قدر اور بلند تصورات و نظریات کے ادراک سے قاصر تھے۔ یہ کلام کس قدر نرم اور تشفی بخش ہے ، کس قدر صاف اور روشن ہے ، لیکن ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ وہ اس کو سن کر کس قدر نا موافق رد عمل کا اظہار کرتے ہیں ، ذرا سنئے اور غور کیجئے :
- 11:6161
۞ وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ هُوَ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُجِيبٌ
اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا اور انہوں نے کہا کہ اے قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اس نے تمہیںزمین سے پیدا کیا ہے اور اس میں آباد کیا ہے اب اس سے استغفار کرو اور اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ کہ میرا پروردگار قریب تر اور دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے
- common.revelation-Meccan
- common.hizb : 92