فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ط ”اَلْعُرْوَۃُ الْوُثْقٰی مضبوط کنڈا یا حلقہ سے مراد اللہ کا تعلق اور اس کا سہارا ہے۔ اس مضبوط سہارے کو تھامنے کا ذکر اس سے پہلے سورة البقرۃ کی آیت 256 میں اس طرح آیا ہے : فَمَنْ یَّکْفُرْ بالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْم باللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰیق لاَ انْفِصَامَ لَھَا ط ”اور جو کوئی انکار کرے طاغوت کا اور ایمان لائے اللہ پر اس نے تو ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔“
- 31:2323
وَمَنْ كَفَرَ فَلَا يَحْزُنْكَ كُفْرُهُ ۚ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
اور جو کفر اختیار کرلے اس کے کفر سے تم کو رنجیدہ نہیں ہونا چاہئے کہ سب کی بازگشت ہماری ہی طرف ہے اور اس وقت ہم بتائیں گے کہ انہوں نے کیا کیا ہے بیشک اللہ دلوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے
- common.revelation-Meccan
- common.hizb : 165