آیت 30 { وَلَوْ نَشَآئُ لَاَرَیْنٰکَہُمْ فَلَعَرَفْتَہُمْ بِسِیْمٰٹہُمْ } ”اور اگر ہم چاہیں تو آپ کو یہ لوگ دکھا دیں اس طرح کہ آپ ان کے چہروں سے انہیں پہچان لیں گے۔“ انگریزی کی مشہور کہاوت ہے face is the index of mind یعنی انسان کے دل کی کیفیت کا عکس اس کے چہرے پر عیاں ہوتا ہے۔ چناچہ ایک صادق الایمان شخص کے چہرے اور ایک منافق کے چہرے کی شناخت چھپ تو نہیں سکتی۔ { وَلَتَعْرِفَنَّہُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ } ”اور آپ انہیں لازماً پہچان لیں گے ان کی گفتگو کے انداز سے۔“ چہرے کی طرح انسان کی گفتگو کا انداز بھی اس کے دل کی کیفیت کی غمازی کرتا ہے۔ ایک سچے اور کھرے انسان کی گفتگو اور ایک منافق شخص کی گفتگو کے اطوار و انداز میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ { وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اَعْمَالَکُمْ } ”اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔“
- 47:3030
وَلَوْ نَشَاءُ لَأَرَيْنَاكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِيمَاهُمْ ۚ وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَعْمَالَكُمْ
اور اگر ہم چاہتے تو آپ کو وہ لوگ دکھا دیتے پس آپ اچھی طرح سے انہیں ان کے نشان سےپہچان لیتے اور آپ انہیں طرز کلام سے پہچان لیں گے اور الله تمہارے اعمال کو جانتا ہے
- common.revelation-Medinan
- common.hizb : 203