قل ان ربی یبسط ۔۔۔۔۔۔ خیر الرزقین (29) ” یہ سبق ایک ایسے منظر پر ختم ہوتا ہے جس میں وہ تمام لوگ فرشتوں کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں ، جو فرشتوں کی بندگی کرتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ قیامت کے عذاب سے ڈرو تو وہ کہتے تھے کہاں ہے قیامت ، لاؤ۔ ان سے کہا جائے گا اب چکھو اس عذاب کو جس کے متعلق تمہیں جلدی تھی۔
- 34:3939
قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ ۚ وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
کہہ دو بے شک میرا رب ہی اپنے بندو ں میں سے جسے چاہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ کر دیتا ہے اور جو کوئی چیز بھی تم خرچ کرتے ہو سو وہی اس کا عوض دیتا ہے اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے
- common.revelation-Meccan
- common.hizb : 173