وجعلنا بینھم ۔۔۔۔۔ وایاما امنین (18) ” “۔ یہ راستہ ایسا تھا کہ مسافر اور قافلے صبح نکلتے اور اندھیرا ہونے سے پہلے دوسرے شہر تک پہنچ جاتے۔ لہٰذا ان شہروں کے درمیان محدود فاصلے کا سفر ہوتا اور یہ راستہ مسافروں کے لیے نہایت ہی امن وامان کا اور محفوظ ہوتا تھا۔ روز کے سفر کے بعد مسافر آرام کرسکتے تھے اور ان کو جگہ جگہ سروسز کی سہولیات مل جاتی تھیں۔
- 34:1818
وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ ۖ سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ
اور ہم نے کیے تھے ان میں اور ان شہروں میں ہم نے برکت رکھی سر راہ کتنے شہر اور انہیں منزل کے اندازے پر رکھا ان میں چلو راتوں اور دنوں امن و امان سے
- common.revelation-Meccan
- common.hizb : 172