شیطان نے انسان کی نہایت ہی حساس رگ پر ہاتھ رکھا۔ انسانی عمر بہرحال محدود ہے۔ انسانی قوت بہرحال محدود ہے۔ انسان طویل زندگی اور طویل اقتدار کا بےحد دلدادہ رہا ہے۔ ان دونوں راستوں سے شیطان اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ آدم بہرحال انسان تھے۔ آدم انسانی فطرت اور انسانی کمزوری کے حامل تھے۔ پھر اس تجربہ کے ساتھ دنیا کے منصوبے اور نظام تقدیر کا بھی تعلق تھا۔ چناچہ آدم بھول گیا اور اس نے ممنوعہ علاقے میں قدم رکھ لیا۔
- 20:120120
فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَا يَبْلَىٰ
تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ (اور) کہا کہ آدم بھلا میں تم کو (ایسا) درخت بتاؤں (جو) ہمیشہ کی زندگی کا (ثمرہ دے) اور (ایسی) بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو
- common.revelation-Meccan
- common.hizb : 128