ویوم یعرض الذین ۔۔۔۔۔ کنتم تکفرون (46 : 34) ” جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے ، اس وقت ان سے پوچھا جائے گا ” کیا یہ حق نہیں ہے ؟ “ یہ کہیں گے ” ہاں ، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حق ہے) “۔ اللہ فرمائے گا ” اچھا تو اب عذاب کا مزہ چکھو اپنے اس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے “۔

ویوم یعرض الذین کفروا علی النار (46 : 34) ” جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے “۔ یہ الفاظ آتے ہی قاری سوچتا ہے کہ اگلا لفظ کیا ہوگا ، کیا قصہ ہوگا ، قصہ نہیں آتا اور اسکرین پر مکالمہ آجا تا ہے۔

الیس ھذا بالحق (46 : 34) ” کیا یہ حق نہیں ؟ “ اچانک اس سوال سے گویا ان لوگوں پر برق ناگہانی گر جاتی ہے جو قیامت کا مذاق اڑاتے تھے اور قیامت کے جلدی لانے کا مطالبہ ہر پیغمبر سے کرتے تھے۔ آج ان کی گردن حق کے سامنے جھک گئی ہے جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ نہایت شرمندگی سے جواب دیتے ہیں۔

قالوا بلی وربنا (46 : 34) ” ہاں ، اور ہمارے رب کی قسم “ اب تو بڑی شرافت سے قسم ربی اٹھاتے ہیں۔ لیکن دنیا میں اللہ کو رب ہی تو نہ مانتے تھے۔ نبیوں کو نہ مانتے تھے۔ آج تو رب کے نام کو قسم کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ اس پر جواب نہیں دیا جاتا ، کوئی تبصرہ نہیں ہوتا ، حقارت آمیز انداز میں فیصلہ ان پر پھینک کر گفتگو ختم کردی جاتی ہے۔

قال فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون (46 : 34) اللہ فرمائے گا ” اچھا تو عذاب کا مزہ چکھو اپنے اس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے تھے “۔ اختصار کے ساتھ۔ جیسا کہ کوئی عدالت مختصر سی آرڈر شیٹ لکھتی ہے۔ ” جرم ظاہر ہے ملزم معترف ہے ، جہنم میں جاوے “۔ یہاں اس منظر کو تیزی سے گزارنا بھی مقصود ہے ، کیونکہ بات فیصلہ کن ہے۔ بحث و مباحثہ کی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے منکر تھے اب معترف ہیں لہٰذا مزا چکھیں جہنم کا۔