شہر

90 - Al-Balad

سُورَةُ البَلَدِ

  • 90:1
    1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ لَا أُقْسِمُ بِهَٰذَا الْبَلَدِ

    میں اس شہر (مکہ) کی قَسم کھاتا ہوں،

  • 90:2
    2

    وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَٰذَا الْبَلَدِ

    (اے حبیبِ مکرّم!) اس لئے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیں٭، ٭ یہ ترجمہ ”لا زائدہ“ کے اعتبار سے ہے۔ لا ”نفئ صحیح“ کے لئے ہو تو ترجمہ یوں ہوگا: میں (اس وقت) اس شہر کی قَسم نہیں کھاؤں گا (اے حبیب!) جب آپ اس شہر سے رخصت ہو جائیں گے۔

  • 90:3
    3

    وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ

    (اے حبیبِ مکرّم! آپ کے) والد (آدم یا ابراہیم علیہما السلام) کی قَسم اور (ان کی) قَسم جن کی ولادت ہوئی٭، ٭ یعنی آدم علیہ السلام کی ذریّتِ صالحہ یا آپ ہی کی ذات گرامی جن کے باعث یہ شہرِ مکہ بھی لائقِ قَسم ٹھہرا ہے۔

  • 90:4
    4

    لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ

    بیشک ہم نے انسان کو مشقت میں (مبتلا رہنے والا) پیدا کیا ہے،

  • 90:5
    5

    أَيَحْسَبُ أَنْ لَنْ يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ

    کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس پر ہرگز کوئی بھی قابو نہ پا سکے گا؟،

  • 90:6
    6

    يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًا لُبَدًا

    وہ (بڑے فخر سے) کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال خرچ کیا ہے،

  • 90:7
    7

    أَيَحْسَبُ أَنْ لَمْ يَرَهُ أَحَدٌ

    کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے (یہ فضول خرچیاں کرتے ہوئے) کسی نے نہیں دیکھا،

  • 90:8
    8

    أَلَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَيْنَيْنِ

    کیا ہم نے اس کے لئے دو آنکھیں نہیں بنائیں،

  • 90:9
    9

    وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ

    اور (اسے) ایک زبان اور دو ہونٹ (نہیں دئیے)،

  • 90:10
    10

    وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ

    اور ہم نے اسے (خیر و شر کے) دو نمایاں راستے (بھی) دکھا دیئے،

  • 90:11
    11

    فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ

    وہ تو (دینِ حق اور عملِ خیر کی) دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہی نہیں ہوا،

  • 90:12
    12

    وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ

    اور آپ کیا سمجھے ہیں کہ وہ (دینِ حق کے مجاہدہ کی) گھاٹی کیا ہے،

  • 90:13
    13

    فَكُّ رَقَبَةٍ

    وہ (غلامی و محکومی کی زندگی سے) کسی گردن کا آزاد کرانا ہے،

  • 90:14
    14

    أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ

    یا بھوک والے دن (یعنی قحط و اَفلاس کے دور میں غریبوں اور محروم المعیشت لوگوں کو) کھانا کھلانا ہے (یعنی ان کے معاشی تعطل اور ابتلاء کو ختم کرنے کی جدّ و جہد کرنا ہے)،

  • 90:15
    15

    يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ

    قرابت دار یتیم کو،

  • 90:16
    16

    أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ

    یا شدید غربت کے مارے ہوئے محتاج کو جو محض خاک نشین (اور بے گھر) ہے،

  • 90:17
    17

    ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ

    پھر (شرط یہ ہے کہ ایسی جدّ و جہد کرنے والا) وہ شخص ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے ہیں اور ایک دوسرے کو صبر و تحمل کی نصیحت کرتے ہیں اور باہم رحمت و شفقت کی تاکید کرتے ہیں،

  • 90:18
    18

    أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ

    یہی لوگ دائیں طرف والے (یعنی اہلِ سعادت و مغفرت) ہیں،

  • 90:19
    19

    وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا هُمْ أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ

    اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ بائیں طرف والے ہیں (یعنی اہلِ شقاوت و عذاب) ہیں،

  • 90:20
    20

    عَلَيْهِمْ نَارٌ مُؤْصَدَةٌ

    ان پر (ہر طرف سے) بند کی ہوئی آگ (چھائی) ہوگی،