شعراء

26 - Ash-Shu'araa

سُورَةُ الشُّعَرَاءِ

  • 26:1
    1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ طسم

    طا، سین، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،

  • 26:2
    2

    تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ

    یہ (حق کو) واضح کرنے والی کتاب کی آیتیں ہیں،

  • 26:123
    123

    كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ

    (قومِ) عاد نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،

  • 26:3
    3

    لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ

    (اے حبیبِ مکرّم!) شاید آپ (اس غم میں) اپنی جانِ (عزیز) ہی دے بیٹھیں گے کہ وہ ایمان نہیں لاتے،

  • 26:4
    4

    إِنْ نَشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ

    اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے (ایسی) نشانی اتار دیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی رہ جائیں،

  • 26:5
    5

    وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنَ الرَّحْمَٰنِ مُحْدَثٍ إِلَّا كَانُوا عَنْهُ مُعْرِضِينَ

    اور ان کے پاس (خدائے) رحمان کی جانب سے کوئی نئی نصیحت نہیں آتی مگر وہ اس سے رُوگرداں ہو جاتے ہیں،

  • 26:6
    6

    فَقَدْ كَذَّبُوا فَسَيَأْتِيهِمْ أَنْبَاءُ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ

    سو بیشک وہ (حق کو) جھٹلا چکے پس عنقریب انہیں اس امر کی خبریں پہنچ جائیں گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،

  • 26:7
    7

    أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الْأَرْضِ كَمْ أَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ

    اور کیا انہوں نے زمین کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس میں کتنی ہی نفیس چیزیں اگائی ہیں،

  • 26:8
    8

    إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ

    بیشک اس میں ضرور (قدرتِ الٰہیہ کی) نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں،

  • 26:9
    9

    وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

    اور یقیناً آپ کا رب ہی تو غالب، مہربان ہے،

  • 26:10
    10

    وَإِذْ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰ أَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

    اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے موسٰی (علیہ السلام) کو نِدا دی کہ تم ظالموں کی قوم کے پاس جاؤ،

  • 26:11
    11

    قَوْمَ فِرْعَوْنَ ۚ أَلَا يَتَّقُونَ

    (یعنی) قومِ فرعون کے پاس، کیا وہ (اللہ سے) نہیں ڈرتے،

  • 26:12
    12

    قَالَ رَبِّ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُكَذِّبُونِ

    موسٰی (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے رب! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے،

  • 26:13
    13

    وَيَضِيقُ صَدْرِي وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْسِلْ إِلَىٰ هَارُونَ

    اور (ایسے ناسازگار ماحول میں) میرا سینہ تنگ ہوجاتا ہے اور میری زبان (روانی سے) نہیں چلتی سو ہارون (علیہ السلام) کی طرف (بھی جبرائیل علیہ السلام کو وحی کے ساتھ) بھیج دے (تاکہ وہ میرا معاون بن جائے)،

  • 26:14
    14

    وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْبٌ فَأَخَافُ أَنْ يَقْتُلُونِ

    اور ان کا میرے اوپر (قبطی کو مار ڈالنے کا) ایک الزام بھی ہے سو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر ڈالیں گے،

  • 26:15
    15

    قَالَ كَلَّا ۖ فَاذْهَبَا بِآيَاتِنَا ۖ إِنَّا مَعَكُمْ مُسْتَمِعُونَ

    ارشاد ہوا: ہرگز نہیں، پس تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ بیشک ہم تمہارے ساتھ (ہر بات) سننے والے ہیں،

  • 26:62
    62

    قَالَ كَلَّا ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ

    (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ابھی مجھے راہِ (نجات) دکھا دے گا،

  • 26:120
    120

    ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ

    پھر اس کے بعد ہم نے باقی ماندہ لوگوں کو غرق کر دیا،

  • 26:16
    16

    فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ

    پس تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو: ہم سارے جہانوں کے پروردگار کے (بھیجے ہوئے) رسول ہیں،

  • 26:17
    17

    أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ

    (ہمارا مدعا یہ ہے) کہ تو بنی اسرائیل کو (آزادی دے کر) ہمارے ساتھ بھیج دے،

  • 26:18
    18

    قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ

    (فرعون نے) کہا: کیا ہم نے تمہیں اپنے یہاں بچپن کی حالت میں پالا نہیں تھا اور تم نے اپنی عمر کے کتنے ہی سال ہمارے اندر بسر کئے تھے،

  • 26:19
    19

    وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِي فَعَلْتَ وَأَنْتَ مِنَ الْكَافِرِينَ

    اور (پھر) تم نے اپنا وہ کام کر ڈالا جو تم نے کیا تھا (یعنی ایک قبطی کو قتل کر دیا) اور تم ناشکر گزاروں میں سے ہو (ہماری پرورش اور احسانات کو بھول گئے ہو)،

  • 26:20
    20

    قَالَ فَعَلْتُهَا إِذًا وَأَنَا مِنَ الضَّالِّينَ

    (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: جب میں نے وہ کام کیا میں بے خبر تھا (کہ کیا ایک گھونسے سے اس کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے)،

  • 26:21
    21

    فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكْمًا وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُرْسَلِينَ

    پھر میں (اس وقت) تمہارے (دائرہ اختیار) سے نکل گیا جب میں تمہارے (ارادوں) سے خوفزدہ ہوا پھر میرے رب نے مجھے حکمِ (نبوت) بخشا اور (بالآخر) مجھے رسولوں میں شامل فرما دیا،

  • 26:22
    22

    وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرَائِيلَ

    اور کیا وہ (کوئی) بھلائی ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتا رہا ہے (اس کا سبب بھی یہ تھا) کہ تو نے (میری پوری قوم) بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا،

  • 26:23
    23

    قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ

    فرعون نے کہا: سارے جہانوں کا پروردگار کیا چیز ہے،

  • 26:24
    24

    قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِنْ كُنْتُمْ مُوقِنِينَ

    (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: (وہ) جملہ آسمانوں کا اور زمین کا اور اُس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو،

  • 26:25
    25

    قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ أَلَا تَسْتَمِعُونَ

    اس نے ان (لوگوں) سے کہا جو اس کے گرد (بیٹھے) تھے: کیا تم سن نہیں رہے ہو،

  • 26:26
    26

    قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ

    (موسٰی علیہ السلام نے مزید) کہا کہ (وہی) تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا (بھی) رب ہے،

  • 26:27
    27

    قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ

    (فرعون نے) کہا: بیشک تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے،

  • 26:28
    28

    قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ

    (موسٰی علیہ السلام نے) کہا: (وہ) مشرق اور مغرب اور اس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم (کچھ) عقل رکھتے ہو،

  • 26:29
    29

    قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ

    (فرعون نے) کہا: (اے موسٰی!) اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تم کو ضرور (گرفتار کر کے) قیدیوں میں شامل کر دوں گا،

  • 26:30
    30

    قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَيْءٍ مُبِينٍ

    (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: اگرچہ میں تیرے پاس کوئی واضح چیز (بطور معجزہ بھی) لے آؤں،

  • 26:31
    31

    قَالَ فَأْتِ بِهِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ

    (فرعون نے) کہا: تم اسے لے آؤ اگر تم سچے ہو،

  • 26:32
    32

    فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ

    پس (موسیٰ علیہ السلام نے) اپنا عصا (زمین پر) ڈال دیا وہ اسی وقت واضح (طور پر) اژدھا بن گیا،

  • 26:33
    33

    وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ

    اور (موسٰی علیہ السلام نے) اپنا ہاتھ (بغل میں ڈال کر) باہر نکالا تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کے لئے (چمک دار) سفید ہوگیا،

  • 26:34
    34

    قَالَ لِلْمَلَإِ حَوْلَهُ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ

    (فرعون نے) اپنے ارد گرد (بیٹھے ہوئے) سرداروں سے کہا: بلاشبہ یہ بڑا دانا جادوگر ہے،

  • 26:35
    35

    يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَكُمْ مِنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ

    یہ چاہتا ہے کہ تمہیں اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے باہر نکال دے پس تم (اب اس کے بارے میں) کیا رائے دیتے ہو،

  • 26:36
    36

    قَالُوا أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ

    وہ بولے کہ تو اسے اور اس کے بھائی (ہارون کے حکمِ سزا سنانے) کو مؤخر کر دے اور (تمام) شہروں میں (جادوگروں کو بلانے کے لئے) ہرکارے بھیج دے،

  • 26:37
    37

    يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ

    وہ تیرے پاس ہر بڑے ماہرِ فن جادوگر کو لے آئیں،

  • 26:38
    38

    فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ

    پس سارے جادوگر مقررہ دن کے معینہ وقت پر جمع کر لئے گئے،

  • 26:39
    39

    وَقِيلَ لِلنَّاسِ هَلْ أَنْتُمْ مُجْتَمِعُونَ

    اور (فرعون کی طرف سے) لوگوں کو کہا گیا کہ تم (اس موقع پر) جمع ہونے والے ہو،

  • 26:40
    40

    لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِنْ كَانُوا هُمُ الْغَالِبِينَ

    تاکہ ہم جادوگروں (کے دین) کی پیروی کر سکیں اگر وہ (موسٰی اور ہارون پر) غالب آگئے،

  • 26:41
    41

    فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالُوا لِفِرْعَوْنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِينَ

    پھر جب وہ جادوگر آگئے (تو) انہوں نے فرعون سے کہا: کیا ہمارے لئے کوئی اُجرت (بھی مقرر) ہے اگر ہم (مقابلہ میں) غالب ہو جائیں،

  • 26:42
    42

    قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذًا لَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ

    (فرعون نے) کہا: ہاں بیشک تم اسی وقت (اجرت والوں کی بجائے میرے) قربت والوں میں شامل ہو جاؤ گے (اور قربت کا درجہ اُجرت سے کہیں بلند ہے)،

  • 26:43
    43

    قَالَ لَهُمْ مُوسَىٰ أَلْقُوا مَا أَنْتُمْ مُلْقُونَ

    موسٰی (علیہ السلام) نے ان (جادوگروں سے) فرمایا: تم وہ (جادو کی) چیزیں ڈال دو جو تم ڈالنے والے ہو،

  • 26:44
    44

    فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ

    تو انہوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے: فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب ہوں گے،

  • 26:45
    45

    فَأَلْقَىٰ مُوسَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ

    پھر موسٰی (علیہ السلام) نے اپنا ڈنڈا ڈال دیا تو وہ (اژدھا بن کر) فوراً ان چیزوں کو نگلنے لگا جو انہوں نے فریب کاری سے (اپنی اصل حقیقت سے) پھیر رکھی تھیں،

  • 26:46
    46

    فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ

    پس سارے جادوگر سجدہ کرتے ہوئے گر پڑے،

  • 26:47
    47

    قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ

    وہ کہنے لگے: ہم سارے جہانوں کے پروردگار پر ایمان لے آئے،

  • 26:48
    48

    رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ

    (جو) موسٰی اور ہارون (علیہما السلام) کا رب ہے،

  • 26:49
    49

    قَالَ آمَنْتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ

    (فرعون نے) کہا: تم اس پر ایمان لے آئے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا، بیشک یہ (موسٰی علیہ السلام) ہی تمہارا بڑا (استاد) ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے، تم جلد ہی (اپنا انجام) معلوم کر لو گے، میں ضرور ہی تمہارے ہاتھ اور تمہارے پاؤں الٹی طرف سے کاٹ ڈالوں گا اور تم سب کو یقیناً سولی پر چڑھا دوں گا،

  • 26:50
    50

    قَالُوا لَا ضَيْرَ ۖ إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنْقَلِبُونَ

    انہوں نے کہا: (اس میں) کوئی نقصان نہیں، بیشک ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں،

  • 26:51
    51

    إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَايَانَا أَنْ كُنَّا أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ

    ہم قوی امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطائیں معاف فرما دے گا، اس وجہ سے کہ (اب) ہم ہی سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں،

  • 26:124
    124

    إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ

    جب اُن سے اُن کے (قومی) بھائی ھود (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو،

  • 26:125
    125

    إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

    بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،

  • 26:121
    121

    إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ

    بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے،

  • 26:126
    126

    فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،

  • 26:122
    122

    وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

    اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے،

  • 26:52
    52

    ۞ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي إِنَّكُمْ مُتَّبَعُونَ

    اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ تم میرے بندوں کو راتوں رات (یہاں سے) لے جاؤ بیشک تمہارا تعاقب کیا جائے گا،

  • 26:53
    53

    فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ

    پھر فرعون نے شہروں میں ہرکارے بھیج دئیے،

  • 26:54
    54

    إِنَّ هَٰؤُلَاءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ

    (اور کہا:) بیشک یہ (بنی اسرائیل) تھوڑی سی جماعت ہے،

  • 26:55
    55

    وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَائِظُونَ

    اور بلاشبہ وہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں،

  • 26:56
    56

    وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَاذِرُونَ

    اور یقیناً ہم سب (بھی) مستعد اور چوکس ہیں،

  • 26:57
    57

    فَأَخْرَجْنَاهُمْ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ

    پس ہم نے ان (فرعونیوں) کو باغوں اور چشموں سے نکال باہر کیا،

  • 26:58
    58

    وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ

    اور خزانوں اور نفیس قیام گاہوں سے (بھی نکال دیا)،

  • 26:59
    59

    كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ

    (ہم نے) اسی طرح (کیا) اور ہم نے بنی اسرائیل کو ان (سب چیزوں) کا وارث بنا دیا،

  • 26:60
    60

    فَأَتْبَعُوهُمْ مُشْرِقِينَ

    پھر سورج نکلتے وقت ان (فرعونیوں) نے ان کا تعاقب کیا،

  • 26:61
    61

    فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ

    پھر جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں (تو) موسٰی (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا: (اب) ہم ضرور پکڑے گئے،

  • 26:63
    63

    فَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنِ اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْبَحْرَ ۖ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ

    پھر ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنا عصا دریا پر مارو، پس دریا (بارہ حصوں میں) پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا زبردست پہاڑ کی مانند ہو گیا،

  • 26:64
    64

    وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الْآخَرِينَ

    اور ہم نے دوسروں (یعنی فرعون اور اس کے ساتھیوں) کو اس جگہ کے قریب کر دیا،

  • 26:65
    65

    وَأَنْجَيْنَا مُوسَىٰ وَمَنْ مَعَهُ أَجْمَعِينَ

    اور ہم نے موسٰی علیہ السلام کو (بھی) نجات بخشی اور ان سب لوگوں کو (بھی) جو ان کے ساتھ تھے،

  • 26:66
    66

    ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ

    پھر ہم نے دوسروں (یعنی فرعونیوں) کو غرق کر دیا،

  • 26:67
    67

    إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ

    بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ) کی بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے،

  • 26:68
    68

    وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

    اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے،

  • 26:69
    69

    وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَاهِيمَ

    اور آپ ان پر ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ (بھی) پڑھ کر سنا دیں،

  • 26:70
    70

    إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ

    جب انہوں نے اپنے باپ ٭ اور اپنی قوم سے فرمایا: تم کس چیز کو پوجتے ہو، ٭ (یہ حقیقی باپ نہ تھا، چچا تھا۔ اسی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پرورش کی تھی جس کی وجہ سے اسے باپ کہا کرتے تھے۔ اس کا نام آزر ہے جبکہ آپ کے حقیقی والد کا نام تارخ ہے۔)

  • 26:71
    71

    قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ

    انہوں نے کہا: ہم بتوں کی پرستش کرتے ہیں اور ہم انہی (کی عبادت و خدمت) کے لئے جمے رہنے والے ہیں،

  • 26:72
    72

    قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ

    (ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: کیا وہ تمہیں سنتے ہیں جب تم (ان کو) پکارتے ہو،

  • 26:73
    73

    أَوْ يَنْفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ

    یا وہ تمہیں نفع پہنچاتے ہیں یا نقصان پہنچاتے ہیں،

  • 26:74
    74

    قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَاءَنَا كَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ

    وہ بولے: (یہ تو معلوم نہیں) لیکن ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا تھا،

  • 26:75
    75

    قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ

    (ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: کیا تم نے (کبھی ان کی حقیقت میں) غور کیا ہے جن کی تم پرستش کرتے ہو،

  • 26:76
    76

    أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ

    تم اور تمہارے اگلے آباء و اجداد (الغرض کسی نے بھی سوچا)،

  • 26:77
    77

    فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ

    پس وہ (سب بُت) میرے دشمن ہیں سوائے تمام جہانوں کے رب کے (وہی میرا معبود ہے)،

  • 26:78
    78

    الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ

    وہ جس نے مجھے پیدا کیا سو وہی مجھے ہدایت فرماتا ہے،

  • 26:79
    79

    وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ

    اور وہی ہے جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے،

  • 26:80
    80

    وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ

    اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے،

  • 26:81
    81

    وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ

    اور وہی مجھے موت دے گا پھر وہی مجھے (دوبارہ) زندہ فرمائے گا،

  • 26:82
    82

    وَالَّذِي أَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ

    اور اسی سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ قیامت وہ میری خطائیں معاف فرما دے گا،

  • 26:83
    83

    رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ

    اے میرے رب! مجھے علم و عمل میں کمال عطا فرما اور مجھے اپنے قربِ خاص کے سزاواروں میں شامل فرما لے،

  • 26:84
    84

    وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ

    اور میرے لئے بعد میں آنے والوں میں (بھی) ذکرِ خیر اور قبولیت جاری فرما،

  • 26:85
    85

    وَاجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ

    اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا دے،

  • 26:86
    86

    وَاغْفِرْ لِأَبِي إِنَّهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ

    اور میرے باپ کو بخش دے بیشک وہ گمراہوں میں سے تھا،

  • 26:87
    87

    وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ

    اور مجھے (اُس دن) رسوا نہ کرنا جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے،

  • 26:88
    88

    يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ

    جس دن نہ کوئی مال نفع دے گا اور نہ اولاد،

  • 26:89
    89

    إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ

    مگر وہی شخص (نفع مند ہوگا) جو اللہ کی بارگاہ میں سلامتی والے بے عیب دل کے ساتھ حاضر ہوا،

  • 26:90
    90

    وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ

    اور (اس دن) جنت پرہیزگاروں کے قریب کر دی جائے گے،

  • 26:91
    91

    وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ

    اور دوزخ گمراہوں کے سامنے ظاہر کر دی جائے گی،

  • 26:92
    92

    وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ

    اور ان سے کہا جائے گا: وہ (بت) کہاں ہیں جنہیں تم پوجتے تھے،

  • 26:93
    93

    مِنْ دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنْصُرُونَكُمْ أَوْ يَنْتَصِرُونَ

    اللہ کے سوا، کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں؟ (کہ اپنے آپ کو دوزخ سے بچالیں)،

  • 26:94
    94

    فَكُبْكِبُوا فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ

    سو وہ (بت بھی) اس (دوزخ) میں اوندھے منہ گرا دیئے جائیں گے اور گمراہ لوگ (بھی)،

  • 26:95
    95

    وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ

    اور ابلیس کی ساری فوجیں (بھی واصل جہنم ہوں گی)،

  • 26:96
    96

    قَالُوا وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ

    وہ (گمراہ لوگ) اس (دوزخ) میں باہم جھگڑا کرتے ہوئے کہیں گے،

  • 26:97
    97

    تَاللَّهِ إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ

    اللہ کی قسم! ہم کھلی گمراہی میں تھے،

  • 26:98
    98

    إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ

    جب ہم تمہیں سب جہانوں کے رب کے برابر ٹھہراتے تھے،

  • 26:99
    99

    وَمَا أَضَلَّنَا إِلَّا الْمُجْرِمُونَ

    اور ہم کو (ان) مجرموں کے سوا کسی نے گمراہ نہیں کیا،

  • 26:100
    100

    فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِينَ

    سو (آج) نہ کوئی ہماری سفارش کرنے والا ہے،

  • 26:101
    101

    وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ

    اور نہ کوئی گرم جوش دوست ہے،

  • 26:102
    102

    فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ

    سو کاش ہمیں ایک بار (دنیا میں) پلٹنا (نصیب) ہو جاتا تو ہم مومن ہوجاتے،

  • 26:103
    103

    إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ

    بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے، اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے،

  • 26:104
    104

    وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

    اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے،

  • 26:105
    105

    كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ

    نوح (علیہ السلام) کی قوم نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،

  • 26:106
    106

    إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ

    جب ان سے ان کے (قومی) بھائی نوح (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو،

  • 26:107
    107

    إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

    بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،

  • 26:108
    108

    فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،

  • 26:109
    109

    وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ

    اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف سب جہانوں کے رب کے ذمہ ہے،

  • 26:110
    110

    فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    پس تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرادری کرو،

  • 26:111
    111

    ۞ قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ

    وہ بولے: کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں حالانکہ تمہاری پیروی (معاشرے کے) انتہائی نچلے اور حقیر (طبقات کے) لوگ کر رہے ہیں،

  • 26:112
    112

    قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

    (نوح علیہ السلام نے) فرمایا: میرے علم کو ان کے (پیشہ وارانہ) کاموں سے کیا سروکار،

  • 26:113
    113

    إِنْ حِسَابُهُمْ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّي ۖ لَوْ تَشْعُرُونَ

    ان کا حساب تو صرف میرے رب ہی کے ذمہ ہے۔ کاش! تم سمجھتے (کہ حقیقی عزت و ذلت کیا ہے)،

  • 26:114
    114

    وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ

    اور میں مومنوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں،

  • 26:115
    115

    إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ

    میں تو فقط کھلا ڈر سنانے والا ہوں،

  • 26:116
    116

    قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ

    وہ بولے: اے نوح! اگر تم (ان باتوں سے) باز نہ آئے تو تمہیں یقیناً سنگ سار کر دیا جائے گا،

  • 26:117
    117

    قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوْمِي كَذَّبُونِ

    (نوح علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا،

  • 26:118
    118

    فَافْتَحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَنَجِّنِي وَمَنْ مَعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ

    پس تو میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے اور مجھے اور ان مومنوں کو جو میرے ساتھ ہیں نجات دے دے،

  • 26:119
    119

    فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ

    پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ بھری ہوئی کشتی میں (سوار) تھے نجات دے دی،

  • 26:127
    127

    وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ

    اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا، میرا اجر تو فقط تمام جہانوں کے رب کے ذمہ ہے،

  • 26:128
    128

    أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ

    کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار تعمیر کرتے ہو (محض) تفاخر اور فضول مشغلوں کے لئے،

  • 26:129
    129

    وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ

    اور تم (تالابوں والے) مضبوط محلات بناتے ہو اس امید پر کہ تم (دنیا میں) ہمیشہ رہو گے،

  • 26:130
    130

    وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ

    اور جب تم کسی کی گرفت کرتے ہو تو سخت ظالم و جابر بن کر گرفت کرتے ہو،

  • 26:131
    131

    فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    سو تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری اختیار کرو،

  • 26:132
    132

    وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ

    اور اس (اللہ) سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے مدد کی جو تم جانتے ہو،

  • 26:133
    133

    أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ

    اس نے تمہاری چوپایہ جانوروں اور اولاد سے مدد فرمائی،

  • 26:134
    134

    وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ

    اور باغات اور چشموں سے (بھی)،

  • 26:135
    135

    إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ

    بیشک میں تم پر ایک زبردست دن کے عذاب کا خوف رکھتا ہوں،

  • 26:136
    136

    قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ

    وہ بولے: ہمارے حق میں برابر ہے خواہ تم نصیحت کرو یا نصیحت کرنے والوں میں نہ بنو (ہم نہیں مانیں گے)،

  • 26:137
    137

    إِنْ هَٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ

    یہ (اور) کچھ نہیں مگر صرف پہلے لوگوں کی عادات (و اطوار) ہیں (جنہیں ہم چھوڑ نہیں سکتے)،

  • 26:138
    138

    وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ

    اور ہم پر عذاب نہیں کیا جائے گا،

  • 26:139
    139

    فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ

    سو انہوں نے اس کو (یعنی ھود علیہ السلام کو) جھٹلا دیا پس ہم نے انہیں ہلاک کر ڈالا، بیشک اس (قصہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے،

  • 26:140
    140

    وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

    اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے،

  • 26:141
    141

    كَذَّبَتْ ثَمُودُ الْمُرْسَلِينَ

    (قومِ) ثمود نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،

  • 26:142
    142

    إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ صَالِحٌ أَلَا تَتَّقُونَ

    جب ان سے ان کے (قومی) بھائی صالح (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو،

  • 26:143
    143

    إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

    بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،

  • 26:144
    144

    فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،

  • 26:145
    145

    وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ

    اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کچھ معاوضہ طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف سارے جہانوں کے پروردگار کے ذمہ ہے،

  • 26:146
    146

    أَتُتْرَكُونَ فِي مَا هَاهُنَا آمِنِينَ

    کیا تم ان (نعمتوں) میں جو یہاں (تمہیں میسر) ہیں (ہمیشہ کے لئے) امن و اطمینان سے چھوڑ دیئے جاؤ گے،

  • 26:147
    147

    فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ

    (یعنی یہاں کے) باغوں اور چشموں میں،

  • 26:148
    148

    وَزُرُوعٍ وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ

    اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے خوشے نرم و نازک ہوتے ہیں،

  • 26:149
    149

    وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ

    اور تم (سنگ تراشی کی) مہارت کے ساتھ پہاڑوں میں تراش (تراش) کر مکانات بناتے ہو،

  • 26:150
    150

    فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،

  • 26:151
    151

    وَلَا تُطِيعُوا أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ

    اور حد سے تجاوز کرنے والوں کا کہنا نہ مانو،

  • 26:152
    152

    الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ

    جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور (معاشرہ کی) اصلاح نہیں کرتے،

  • 26:153
    153

    قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ

    وہ بولے کہ تم تو فقط جادو زدہ لوگوں میں سے ہو،

  • 26:154
    154

    مَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا فَأْتِ بِآيَةٍ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ

    تم تو محض ہمارے جیسے بشر ہو، پس تم کوئی نشانی لے آؤ اگر تم سچے ہو،

  • 26:155
    155

    قَالَ هَٰذِهِ نَاقَةٌ لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ

    (صالح علیہ السلام نے) فرمایا: (وہ نشانی) یہ اونٹنی ہے پانی کا ایک وقت اس کے لئے (مقرر) ہے اور ایک مقررہ دن تمہارے پانی کی باری ہے،

  • 26:156
    156

    وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ

    اور اِسے برائی (کے ارادہ) سے ہاتھ مت لگانا ورنہ بڑے (سخت) دن کا عذاب تمہیں آپکڑے گا،

  • 26:157
    157

    فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُوا نَادِمِينَ

    پھر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں (سو اسے ہلاک کر دیا) پھر وہ (اپنے کئے پر) پشیمان ہو گئے،

  • 26:158
    158

    فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ

    سو انہیں عذاب نے آپکڑا، بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے،

  • 26:159
    159

    وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

    اور بیشک آپ کا رب ہی بڑا غالب رحمت والا ہے،

  • 26:160
    160

    كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ الْمُرْسَلِينَ

    قومِ لوط نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،

  • 26:161
    161

    إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ لُوطٌ أَلَا تَتَّقُونَ

    جب ان سے ان کے (قومی) بھائی لوط (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو،

  • 26:162
    162

    إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

    بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،

  • 26:163
    163

    فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت اختیار کرو،

  • 26:164
    164

    وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ

    اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف تمام جہانوں کے رب کے ذمہ ہے،

  • 26:165
    165

    أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ

    کیا تم سارے جہان والوں میں سے صرف مَردوں ہی کے پاس (اپنی شہوانی خواہشات پوری کرنے کے لئے) آتے ہو،

  • 26:166
    166

    وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ ۚ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ

    اور اپنی بیویوں کو چھوڑ دیتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے لئے پیدا کی ہیں، بلکہ تم (سرکشی میں) حد سے نکل جانے والے لوگ ہو،

  • 26:167
    167

    قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا لُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ

    وہ بولے: اے لوط! اگر تم (ان باتوں سے) باز نہ آئے تو تم ضرور شہر بدر کئے جانے والوں میں سے ہو جاؤ گے،

  • 26:168
    168

    قَالَ إِنِّي لِعَمَلِكُمْ مِنَ الْقَالِينَ

    (لوط علیہ السلام نے) فرمایا: بیشک میں تمہارے عمل سے بیزار ہونے والوں میں سے ہوں،

  • 26:169
    169

    رَبِّ نَجِّنِي وَأَهْلِي مِمَّا يَعْمَلُونَ

    اے رب! تو مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کام کے وبال) سے نجات عطا فرما جو یہ کر رہے ہیں،

  • 26:170
    170

    فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ

    پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات عطا فرما دی،

  • 26:171
    171

    إِلَّا عَجُوزًا فِي الْغَابِرِينَ

    سوائے ایک بوڑھی عورت کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی،

  • 26:172
    172

    ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِينَ

    پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا،

  • 26:173
    173

    وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَطَرًا ۖ فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِينَ

    اور ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش برسائی سو ڈرائے ہوئے لوگوں کی بارش کتنی تباہ کن تھی،

  • 26:174
    174

    إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ

    بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے،

  • 26:175
    175

    وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

    اور بیشک آپ کا رب ہی بڑا غالب رحمت والا ہے،

  • 26:176
    176

    كَذَّبَ أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ

    باشندگانِ ایکہ (یعنی جنگل کے رہنے والوں) نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا،

  • 26:177
    177

    إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلَا تَتَّقُونَ

    جب ان سے شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو،

  • 26:178
    178

    إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

    بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،

  • 26:179
    179

    فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ

    پس تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری اختیار کرو،

  • 26:180
    180

    وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ

    اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف تمام جہانوں کے رب کے ذمہ ہے،

  • 26:181
    181

    ۞ أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَ

    تم پیمانہ پورا بھرا کرو اور (لوگوں کے حقوق کو) نقصان پہنچانے والے نہ بنو،

  • 26:182
    182

    وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ

    اور سیدھی ترازو سے تولا کرو،

  • 26:183
    183

    وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

    اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم (تول کے ساتھ) مت دیا کرو اور ملک میں (ایسی اخلاقی، مالی اور سماجی خیانتوں کے ذریعے) فساد انگیزی مت کرتے پھرو،

  • 26:184
    184

    وَاتَّقُوا الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الْأَوَّلِينَ

    اور اس (اللہ) سے ڈرو جس نے تم کو اور پہلی امتوں کو پیدا فرمایا،

  • 26:185
    185

    قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ

    وہ کہنے لگے: (اے شعیب!) تم تو محض جادو زدہ لوگوں میں سے ہو،

  • 26:186
    186

    وَمَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا وَإِنْ نَظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ

    اور تم فقط ہمارے جیسے بشر ہی تو ہو اور ہم تمہیں یقیناً جھوٹے لوگوں میں سے خیال کرتے ہیں،

  • 26:187
    187

    فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ

    پس تم ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے ہو،

  • 26:188
    188

    قَالَ رَبِّي أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ

    (شعیب علیہ السلام نے) فرمایا: میرا رب ان (کارستانیوں) کو خوب جاننے والا ہے جو تم انجام دے رہے ہو،

  • 26:189
    189

    فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ

    سو انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا پس انہیں سائبان کے دن کے عذاب نے آپکڑا، بیشک وہ زبردست دن کا عذاب تھا،

  • 26:190
    190

    إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ

    بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے۔،

  • 26:191
    191

    وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

    اور بیشک آپ کا رب ہی بڑا غالب رحمت والا ہے،

  • 26:192
    192

    وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ

    اور بیشک یہ (قرآن) سارے جہانوں کے رب کا نازل کردہ ہے،

  • 26:193
    193

    نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ

    اسے روح الامین (جبرائیل علیہ السلام) لے کر اترا ہے،

  • 26:194
    194

    عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ

    آپ کے قلبِ (انور) پر تاکہ آپ (نافرمانوں کو) ڈر سنانے والوں میں سے ہو جائیں،

  • 26:195
    195

    بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ

    (اس کا نزول) فصیح عربی زبان میں (ہوا) ہے،

  • 26:196
    196

    وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ

    اور بیشک یہ پہلی امتوں کے صحیفوں میں (بھی مذکور) ہے،

  • 26:197
    197

    أَوَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ آيَةً أَنْ يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ

    اور کیا ان کے لئے (صداقتِ قرآن اور صداقتِ نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) یہ دلیل (کافی) نہیں ہے کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء (بھی) جانتے ہیں،

  • 26:198
    198

    وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَىٰ بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ

    اور اگر ہم اسے غیر عربی لوگوں (یعنی عجمیوں) میں سے کسی پر نازل کرتے،

  • 26:199
    199

    فَقَرَأَهُ عَلَيْهِمْ مَا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ

    سو وہ اس کو ان لوگوں پر پڑھتا تو (بھی) یہ لوگ اس پر ایمان لانے والے نہ ہوتے،

  • 26:200
    200

    كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ

    اس طرح ہم نے اس (کے انکار) کو مجرموں کے دلوں میں پختگی سے داخل کر دیا ہے،

  • 26:201
    201

    لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ

    وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں،

  • 26:202
    202

    فَيَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

    پس وہ (عذاب) انہیں اچانک آپہنچے گا اور انہیں شعور (بھی) نہ ہوگا،

  • 26:203
    203

    فَيَقُولُوا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُونَ

    تب وہ کہیں گے: کیا ہمیں مہلت دی جائے گی،

  • 26:204
    204

    أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ

    کیا یہ ہمارے عذاب میں جلدی کے طلب گار ہیں،

  • 26:205
    205

    أَفَرَأَيْتَ إِنْ مَتَّعْنَاهُمْ سِنِينَ

    بھلا بتائیے اگر ہم انہیں برسوں فائدہ پہنچاتے رہیں،

  • 26:206
    206

    ثُمَّ جَاءَهُمْ مَا كَانُوا يُوعَدُونَ

    پھر ان کے پاس وہ (عذاب) آپہنچے جس کا ان سے وعدہ کیا جار ہا ہے،

  • 26:207
    207

    مَا أَغْنَىٰ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يُمَتَّعُونَ

    (تو) وہ چیزیں (ان سے عذاب کو دفع کرنے میں) کیا کام آئیں گی جن سے وہ فائدہ اٹھاتے رہے تھے،

  • 26:208
    208

    وَمَا أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنْذِرُونَ

    اور ہم نے سوائے ان (بستیوں) کے جن کے لئے ڈرانے والے (آچکے) تھے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا،

  • 26:209
    209

    ذِكْرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَالِمِينَ

    (اور یہ بھی) نصیحت کے لئے اور ہم ظالم نہ تھے،

  • 26:210
    210

    وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ

    اور شیطان اس (قرآن) کو لے کرنہیں اترے،

  • 26:211
    211

    وَمَا يَنْبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ

    نہ (یہ) ان کے لئے سزاوار ہے اور نہ وہ (اس کی) طاقت رکھتے ہیں،

  • 26:212
    212

    إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ

    بیشک وہ (اس کلام کے) سننے سے روک دیئے گئے ہیں،

  • 26:213
    213

    فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ

    پس (اے بندے!) تو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پوجا کر ورنہ تو عذاب یافتہ لوگوں میں سے ہو جائے گا،

  • 26:214
    214

    وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ

    اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو (ہمارے عذاب سے) ڈرائیے،

  • 26:215
    215

    وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ

    اور آپ اپنا بازوئے (رحمت و شفقت) ان مومنوں کے لئے بچھا دیجئے جنہوں نے آپ کی پیروی اختیار کر لی ہے،

  • 26:216
    216

    فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ

    پھر اگر وہ آپ کی نافرمانی کریں تو آپ فرما دیجئے کہ میں ان اعمالِ (بد) سے بیزار ہوں جو تم انجام دے رہے ہو،

  • 26:217
    217

    وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ

    اور بڑے غالب مہربان (رب) پر بھروسہ رکھیے،

  • 26:218
    218

    الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ

    جو آپ کو (رات کی تنہائیوں میں بھی) دیکھتا ہے جب آپ (نمازِ تہجد کے لئے) قیام کرتے ہیں،

  • 26:219
    219

    وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ

    اور سجدہ گزاروں میں (بھی) آپ کا پلٹنا دیکھتا (رہتا) ہے،

  • 26:220
    220

    إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

    بیشک وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے،

  • 26:221
    221

    هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ

    کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں،

  • 26:222
    222

    تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ

    وہ ہر جھوٹے (بہتان طراز) گناہگار پر اترا کرتے ہیں،

  • 26:223
    223

    يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ

    جو سنی سنائی باتیں (ان کے کانوں میں) ڈال دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں،

  • 26:224
    224

    وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ

    اور شاعروں کی پیروی بہکے ہوئے لوگ ہی کرتے ہیں،

  • 26:225
    225

    أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ

    کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ (شعراء) ہر وادئ (خیال) میں (یونہی) سرگرداں پھرتے رہتے ہیں (انہیں حق میں سچی دلچسپی اور سنجیدگی نہیں ہوتی بلکہ فقط لفظی و فکری جولانیوں میں مست اور خوش رہتے ہیں)،

  • 26:226
    226

    وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ

    اور یہ کہ وہ (ایسی باتیں) کہتے ہیں جنہیں (خود) کرتے نہیں ہیں،

  • 26:227
    227

    إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا ۗ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ

    سوائے ان (شعراء) کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہے (یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدح خواں بن گئے) اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد (ظالموں سے بزبانِ شعر) انتقام لیا (اور اپنے کلام کے ذریعے اسلام اور مظلوموں کا دفاع کیا بلکہ ان کاجوش بڑھایا تو یہ شاعری مذموم نہیں)، اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا عنقریب جان لیں گے کہ وہ (مرنے کے بعد) کونسی پلٹنے کی جگہ پلٹ کر جاتے ہیں،